23 فروری 2026 - 05:59
یہ معاملہ ایٹمی یا میزائل کا نہیں ہے؛ بلکہ یہ 'ایپسٹینزم' اور 'مکتب کربلا' کا تصادم ہے!"، ارجنٹائنی تجزیہ کار

ایک ارجنٹائنی تجزیہ کار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے حالیہ بیانات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: "یہ معاملہ ایٹمی یا میزائل کا نہیں، بلکہ یہ 'ایپسٹینزم' اور 'مکتب کربلا' کا آمنا سامنا ہے!

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، ارجنٹائن میں جعفری فیڈریشن (FIYAR) کے صدر احمد دیاب، نے اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں ـ جس کا ہسپانوی نسخہ ابنا نیوز ایجنسی کو بھیجا گیا ہےـ لکھا:

تشیّع کی اصل کہانی کربلا سے شروع ہوتی ہے؛ تاریخ لکھتی ہے کہ امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے چند ساتھی ایک بہت بڑی فوج کے مقابلے میں ہار گئے؛ لیکن تشیع اور احرار عالم سمجھتے ہیں کہ وہ ہارے نہیں؛ ان کی شہادت نے ہمیشہ کے لئے ثابت کر دیا کہ حق ظلم کے سامنے سر خم نہيں کر سکتا۔ ان دنوں دنیا بھر میں دو متنازعہ موضوعات یعنی ایپسٹین کا عجیب مقدمہ اور ایران کے خلاف امریکہ کی بار بار دھمکیوں پر بات ہو رہی ہے۔

یہ معاملہ ایٹمی یا میزائل کا نہیں ہے؛ بلکہ یہ 'ایپسٹینزم' اور 'مکتب کربلا' کا تصادم ہے!"، ارجنٹائنی تجزیہ کار

اس صحافی، تجزیہ کار اور مصنف نے، ـ جو ارجنٹائن کے صوبہ لا ریوخا کے اسلامی مرکز میں اسلامی امور کے ذمہ دار بھی ہیں، ـ اس مضمون میں لکھا ہے:

طاقت، مراعات اور کرپشن کے نیٹ ورک جو "جیفری ایپسٹین" کے مقدمے سے سامنے آئے ہیں، وہ شیعیانِ علیؑ کے ایثار اور عقیدہ شہادت (جس کا سرچشمہ کربلا کا واقعہ اور امام حسین (علیہ السلام) کا قیام ہے) سے یکسر متضاد ہیں۔ یہی تضاد ظلم کے خلاف شیعہ مزاحمت اور استقامت کے نظریئے کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔

ایران پر موجودہ دباؤ وہی پرانے طریقے ہیں: پابندیاں، دھمکیاں، عالمی سلامتی کے بارے میں وہی باتیں۔ لیکن اس ظاہری شکل کے پیچھے، ایک بہت گہرا اختلاف ہے؛ دو نقطہ ہائے فکر جو ایک دوسرے کے ساتھ بالکل ہم آہنگ نہیں ہو سکتے۔

یہ معاملہ ایٹمی یا میزائل کا نہیں ہے؛ بلکہ یہ 'ایپسٹینزم' اور 'مکتب کربلا' کا تصادم ہے!"، ارجنٹائنی تجزیہ کار

● ایک طرف: پوشیدہ طاقت اور اثر و رسوخ، بے جان تخمینے، اور امیروں کے مخصوص کلب (ایپسٹینزم اور صہیونیت سے وابستہ)

● دوسری طرف: کربلا کی یاد؛ جہاں امام حسین (علیہ السلام) نے اپنی شہادت سے ثابت کرکے دکھا دیا کہ حقیقت چاہے ظاہری طور پر ہار بھی جائے، بالآخر ظلم پر فتح یاب ہوتی ہے۔

اسی لئے، یہ معاملہ محض جوہری معاملہ یا میزائل کی بحث نہیں ہے؛ یہاں دنیا کے دو بالکل مختلف نظریات آپس میں ٹکرا رہے ہیں: ایپسٹین کا مقدمہ غیر مغربی دنیا کے بہت سے لوگوں سے کہتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین طاقتوں کے لئے ڈھیلے اور باقی دنیا کے لئے سخت گیر ہیں۔

اس ماحول میں، رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) احرار عالم اور اپنے پیروکاروں کے نزدیک، محض ایک سیاست دان نہیں ہے؛ بلکہ وہ کربلا کے اسی راستے کا تسلسل ہیں؛ ایسی شخصیت جس نے اسلام کی دینی تعلیم حاصل کی ہے اور ان کا تعلق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی نسل سے ہے۔ یہاں تک کہ نوام چامسکی نے بھی ان کی فکر اور استدلال کی گہرائی کو قابل احترام قرار دیا ہے۔

چنانچہ ایران پر کوئی بھی حملہ یا دباؤ، اس کے حامیوں کے لئے محض ایک فوجی اقدام نہیں بلکہ یہ استکبار اور ان لوگوں کے درمیان اسی قدیم جنگ کا تسلسل ہے جو ظلم و جبر کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے۔

یہ معاملہ ایٹمی یا میزائل کا نہیں ہے؛ بلکہ یہ 'ایپسٹینزم' اور 'مکتب کربلا' کا تصادم ہے!"، ارجنٹائنی تجزیہ کار

اگر ہم شیعہ نقطہ نظر اور 1400 سالہ تجربۂ مزاحمت کے ساتھ اس معاملے کا موازنہ کریں تو، ایران کے ساتھ ایک طویل جنگ امریکہ اور اسرائیل کے لئے بہت مہنگی اور انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

شیعہ شکست میں بھی فتح کیوں دیکھتا ہے؟

تشیع کی اصل کہانی کربلا سے شروع ہوتی ہے: تاریخ کہتی ہے کہ امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے گنے چنے ساتھی ایک بہت بڑی فوج کے مقابلے میں ہار گئے۔ لیکن تشیع کو یقین ہے کہ وہ ہارے نہیں؛ ان کی شہادت نے ہمیشہ کے لئے ثابت کر دیا کہ حق ظلم کے سامنے سر جھکا ہی نہیں سکتا۔

جو شخص اس عقیدے کے ساتھ لڑتا ہے، وہ خود کو محض ایک ملک کا سپاہی نہیں سمجھتا؛ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا ایک دینی فریضہ ہے؛ چنانچہ امریکہ یا اسرائیل جیسی عام فوجوں کے مقابلے میں اس کی قوت برداشت اور مشکلات اور نقصانات جھیلنے میں اس کی صلاحیت کہیں زیادہ ہے۔ جتنا دباؤ بڑھے گا، ان کا حوصلہ اور عقیدہ اتنا ہی مضبوط ہوتا جائے گا۔

طویل جنگ امریکہ کا کیا حال کرے گی؟

خلیج فارس میں ایک طویل جنگ سب کے لئے بری ہے۔ امریکہ ہمیشہ لمبی اور نہ ختم ہونے والی جنگوں میں مالی اخراجات اور عالمی ساکھ کے حوالے سے بھاری نقصان اٹھاتا رہا ہے۔ اسرائیل بھی اپنے چھوٹے سائز اور کم آبادی کی وجہ سے مسلسل حملے برداشت نہیں کر سکتا۔

مثال کے طور پر، اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں اور پوری دنیا کی معیشت درہم برہم ہو جائے گی اور سب کو نقصان ہوگا۔

اور ہاں! ایران اکیلا نہیں ہے

خطے میں ایران کے بہت سارے دوست ہیں: لبنان میں حزب اللہ، یمن میں انصار اللہ، عراق اور شام میں مقاومتی تحریکیں۔ افغانستان میں طالبان کے ساتھ امریکیوں کے اچھے تعلقات نہیں ہیں، اور وہ بھی انتہائی مشکل حالات میں ہیں، تاہم وہ عارضی طور پر امریکہ کے خلاف تاکتیکی تعاون کر سکتے ہیں۔

دشمن کے 'بڑے لشکر' کے مقابلے کے لئے ایرانیوں کا 'طاقتورترین دفاعی ہتھیار' + ایک ویڈیو

کیا یہ جنگ ختم ہوگی؟

امریکہ اور اسرائیل شروع میں بڑے حملے کر سکتے ہیں۔ لیکن چند ماہ بعد جب ایرانی عوامی کہہ رہے ہوں کہ "ہم نے مزاحمت کی اور جارحوں کو شکست دی"، تو یہ امریکہ، اسرائیلی لابی اور پورے صہیونی پراجیکٹ کے لئے بہت بڑی اور جان لیوا ناکامی ہوگی۔

ایک 250 سالہ بڑی طاقت، ـ جو اپنی تاسیس کے آغاز سے اب تک مسلسل لڑتی رہی ہے، ـ کو آج ایسی شخصیت کا سامنا ہے جو "اختتام" پر یقین نہیں رکھتی۔

جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے: اگر امریکہ کا ایک طیارہ بردار بحری جہاز ڈوب جائے، تو ٹرمپ (یا کسی بھی دوسرے صدر) کا دور حکومت عملاً ختم ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha